طبع خدا داد

قسم کلام: اسم نکرہ ( واحد )

معنی

١ - فطری صلاحیت، وہی ذہانت، پیدائشی طباعی۔ "اکبر . نے . اپنی ہی طبع خدا داد سے استعداد حاصل کی کہ جس کو ارباب حکمت و اصحابِ ریاضت . دیکھ کر دنگ ہوتے تھے۔"      ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٥، ١١:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'طبع' کے بعد کسرہ صفت لگا کر فارسی ترکیب 'خدا داد' لگانے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٩٧ء کو "تاریخ ہندوستان" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فطری صلاحیت، وہی ذہانت، پیدائشی طباعی۔ "اکبر . نے . اپنی ہی طبع خدا داد سے استعداد حاصل کی کہ جس کو ارباب حکمت و اصحابِ ریاضت . دیکھ کر دنگ ہوتے تھے۔"      ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٥، ١١:١ )